Gita Acharan |Urdu


شریمد بھگود گیتا گیان کا اد بھت بھنڈار ہے جس کی تعلیمات ہرشخص

کا ادھار کر اس کی زندگی بدل سکتی ہے۔ اس شارہ ہے گیتا کے 700

شلوکوں میں دی گئی اسی بیش قیمت تعلیم کو آسان شیلی میں گیتا

آچارن کے روپ میں سلسلہ وار پیش کر رہے ہیں ۔

اہنکار

یدھ کی بات کرنا آسان ہے ۔ یدھ کرنامشکل ہے۔ ایسا ہی ارجن کے ساتھ ہوا۔ایسا

ہم سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کاحل ہمیں شریمد بھگود گیتا میں ملتا ہے۔

کوروکشیتر کے یدھ کو ایک رو پک کی شکل میں لینے پر ہم ایک ایسی حالت میں

پرویش کرتے ہیں ،جیسا ارجن نے محسوس کیا۔ ہماری روزمرہ کی زندگی ، پر یوار، کام کی جگہ

اور صحت، اقتصادی معاملوں ، رشتوں میں کئی بار ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں جب

فیصلہ لینا مشکل ہوتا ہے ۔ جب تک زندگی ہے ، تب تک می د بدھائیں فطری ہیں ۔ یعنی |

جب تک اہنکارکو بجھ نہیں پاتے ہیں۔

بھگود گیتا کو روکشیتر کے میدان جنگ میں بھگوان شری کرشن اور یودھا ارجن کے بیچ |

700 شلوکوں کا سنواد ہے ۔ یدھ شروع ہونے سے ٹھیک پہلے ، ارجن کو محسوس ہوتا ہے کہ

یدھ اس کے کئی دوستوں اور رشتے داروں کو مار دے گا ۔ ارجن دلیل دیتے ہیں کہ بیٹی

نظریوں سے برا ہے ۔ارجن کے من میں پیدا

ہوئی دبدھا پر شری کرشن بھگوان کہتے ہیں۔

ہے ارجن ! برعکس حالت پر تمہارے من |

میں یہ اگیان کیسے پیدا ہوا؟ نہ تو اس کی

زندگی کی قدر و قیمتوں کو جاننے والے

انسانوں کی طرف سے آچرن کیا گیا ہے، نہ

ہی اس سے سورگ اور نہ ہی پیش کی پراپی |

ہوتی ہے ‘‘

ارجن کی دیدھا ان کی اس دھارنا سے پیدا |

ہوتی ہے کہ میں کرتا ہوں اہم کرتا اور اسے اہنکار کے روپ میں بھی جانا جا تا ہے۔

ید اہنکار ہمیں بتاتا رہتا ہے کہ ہم خاص ہیں لیکن حقیقت کچھ اور ہے ۔ حالانکہ دمبھ( |

ایگو) کو عام طور پر اہنکار کے معنی کے روپ میں لیا جا تا ہے ، لیکن اسے اہنکار کے کئی

اظہاروں میں سے ایک کے روپ میں لیا جاسکتا ہے۔

پوراسنوادای اہنکار کے بارے میں ہے، چاہے وہ بالواسطہ یا بلا واستہ روپ سے ہو

اور شری کرشن اس سے چھٹکارہ پانے کیلئے کئی طرح کے راستے بتاتے ہیں۔ گیتا اس بارے |

میں ہے کہ ہم کیا ہیں اور یقینی طور سے اس بارے میں نہیں کہ ہم کیا جانتے ہیں یا ہم کیا

کرتے ہیں ۔ گیتا کے مارگ درشک سدھانت ہمیں آخری منزل تک پہنچانے میں مدد

کریں گے۔ وہ اندرونی حالت جواہنکار سے ملت ہیں ۔

ظاہری طور پر ایسا لگتا ہے کہ بھگوان شیری کرشن کی طرف سے ارجن کو گیتا گیان دیئے

جانے کے بعد سے وقت بدل گیا ہے ۔ یقینی طور سے پچھلی پکچھ صدیوں میں سائنس کے

وکاس سے بہت سارے بدلاؤ ہوئے ہیں لیکن اصل میں سلسلہ وار وکاس کے نظریہ سے،

انسان آگے دکست نہیں ہوا ہے ۔ ہماری اندرونی د بدھا ویسی ہی ہے۔ باہری ابھیو یکتیاں |

( پیر ) الگ دکھ سکتی ہیں لیکن انترمن ( جڑیں ) وہی ہیں ۔

۔ کے شوا پرساد

سینئر آئی اے ایس، پنجاب سرکار


Contact Us

Loading
Your message has been sent. Thank you!